مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ باب: خواتین کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے والی خواتین کا بیان
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرْبَعَةٌ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَمَّنَتِ الْمَلَائِكَةُ : رَجُلٌ جَعَلَهُ اللَّهُ ذَكَرًا فَأَنَّثَ نَفْسَهُ وَتَشَبَّهَ بِالنِّسَاءِ ، وَامْرَأَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ أُنْثَى فَتَذَكَّرَتْ وَتَشَبَّهَتْ بِالرِّجَالِ ، وَالَّذِي يُضِلُّ الْأَعْمَى ، وَرَجُلٌ حَصُورٌ ، وَلَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ حَصُورًا إِلَّا يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چار قسم کے لوگوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے اور فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ، ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مذکر بنایا ہے ، اور وہ اپنے آپ کو مؤنث بنائے اور خواتین کے ساتھ مشابہت اختیار کرے ، ایک وہ عورت جسے اللہ تعالیٰ نے مؤنث بنایا ہو اور وہ خود کو مذکر بنائے اور مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرے ، اور وہ شخص جو کسی نابینا کو گمراہ کر دے اور وہ شخص جو عورتوں سے لاتعلق رہتا ہو ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے صرف سیدنا یحیی بن زکریا علیہما السلام کو ایسا بنایا ہے کہ وہ عورتوں سے لاتعلق رہیں “ ( یعنی شادی نہ کریں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید الہانی ہے اور وہ متروک ہے ۔