حدیث نمبر: 13181
عَنْ أَبِي النَّضْرِ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ كَانَ يَشْتَكِي ( رِجْلَهُ ) ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَخُوهُ وَقَدْ جَعَلَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى ( وَهُوَ مَضْطَجِعٌ ) ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى رِجْلِهِ الْوَجِعَةِ فَأَوْجَعَهُ ، فَقَالَ : أَوْجَعْتَنِي ، أَوَ لَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رِجْلِي وَجِعَةٌ ؟ قَالَ : بَلَى . قَالَ : فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : أَوَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ نَهَى عَنْ هَذِهِ ؟ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا النَّضْرِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ . ¤
محمد محی الدین

ابونضر بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کی ایک ٹانگ میں تکلیف تھی ، ان کے بھائی ان کے پاس آئے ، انہوں نے ایک ٹانگ دوسرے پر رکھی ہوئی تھی اور وہ لیٹے ہوئے تھے ، تو ان کے بھائی نے اپنا ہاتھ ان کی ٹانگ پر مارا اور اس طرح مارا کہ جس سے انہیں تکلیف ہوئی ، تو انہوں نے کہا: کیا تم نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے ، کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میری ٹانگ میں پہلے ہی تکلیف ہے ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ( یعنی میں یہ بات جانتا ہوں ) انہوں نے دریافت کیا ، تو پھر آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ دوسرے صاحب نے کہا: کیا آپ یہ بات نہیں جانتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابونضر نامی راوی نے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13181
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (42/3)»