مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُشَاوَرَةِ باب: مشورہ لینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أُمِّ مَسْلَمَةٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُ أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيْهَانِ الْأَنْصَارِيُّ فَاسْتَخْدَمَهُ ، فَوَعَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنْ أَصَابَ سَبْيًا ، فَلَقِيَ عُمَرَ فَقَالَ : يَا أَبَا الْهَيْثَمِ ، إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَصَابَ سَبْيًا ، فَائْتِهِ فَتَنَجَّزْ عِدَتَكَ . فَمَضَى أَبُو الْهَيْثَمِ وَعُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبُو الْهَيْثَمِ أَتَاكَ يَتَنَجَّزُ عِدَتَهُ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ أَصَبْنَا غُلَامَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ، اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ " . قَالَ : فَإِنِّي أَسْتَشِيرُكَ . فَقَالَ : " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ ، خُذْ هَذَا فَقَدَ صَلَّى عِنْدَنَا وَلَا تَضْرِبْهُ ، فَإِنَّا قَدْ نُهِينَا ، عَنْ ضَرْبِ الْمُصَلِّينَ " . قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ : " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ " . فَقَطْ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، عَنْ شَيْخِهِ سُفْيَانَ بْنِ وَكِيعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدہ اُم مسلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ابوالہیثم بن تیہان انصاری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے خدمت گزار مانگا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ وعدہ کیا کہ جب آپ کو قیدی ملیں گے ، تو آپ انہیں دیدیں گے ، ان کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے کہا: اے ابوالہیثم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قیدی ملے ہیں ، تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا وعدہ پورا کروا لو ، سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ابوالہیثم آپ کے پاس اس لئے آیا ہے تاکہ وہ اپنا وعدہ پورا کروا لے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ہمیں دو سیاہ فام غلام ملے ہیں ، تم ان دونوں میں سے جس کو چاہو اختیار کر لو ، انہوں نے عرض کی : میں آپ سے مشورہ مانگتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس سے مشورہ مانگا جاتا ہے وہ امین ہوتا ہے ، تم اس کو لے لو کیونکہ یہ ہمارے ہاں نماز پڑھتا ہے ، تم اسے نہ مارنا کیونکہ ہمیں نمازیوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ترمذی نے اس روایت میں سے صرف یہ والا حصہ نقل کیا ہے : ” جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد سفیان بن وکیع کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔