مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغِيبَةِ وَالنَّمِيمَةِ باب: غیبت کرنے اور چغلی کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرُوا رَجُلًا عِنْدَهُ فَقَالُوا : مَا أَعْجَزَهُ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اغْتَبْتُمْ أَخَاكُمْ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْنَا مَا فِيهِ . قَالَ : " إِنْ قُلْتُمْ مَا لَيْسَ فِيهِ فَقَدْ بَهَتُّمُوهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، لوگوں نے آپ کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا اور یہ کہا: کہ فلاں شخص کتنا عاجز ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں نے اپنے بھائی کی غیبت کی ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے اس کے بارے میں اگر کوئی ایسی بات کی ہو ، جو اس میں نہ ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم ایسی بات کرو جو اس میں نہ ہو ، تو تم نے اس پر بہتان لگایا ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔