مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغِيبَةِ وَالنَّمِيمَةِ باب: غیبت کرنے اور چغلی کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَعْجَزَ - أَوْ قَالَ : مَا أَصْعَبَ - فُلَانًا ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اغْتَبْتُمْ صَاحِبَكُمْ وَأَكَلْتُمْ لَحْمَهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَلَفْظُهُ : إِنَّ رَجُلًا قَامَ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَوْا فِي قِيَامِهِ عَجْزًا ، فَقَالُوا : مَا أَعْجَزَ فُلَانًا ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَكَلْتُمْ أَخَاكُمْ وَاغْتَبْتُمُوهُ " . وَفِي إِسْنَادِهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَيُقَالُ لَهُ : حَمَّادٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص کتنا عاجز ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) فلاں شخص کتنا کمزور ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے اپنے ساتھی کی غیبت کی ہے اور تم نے اس کا گوشت کھایا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان کے الفاظ یہ ہیں : ” ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کے گیا ، لوگوں نے اس کے اٹھنے میں عاجز ہونا دیکھا تو یہ کہا: فلاں شخص کتنا عاجز ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں نے اپنے بھائی کو کھایا ہے اور تم لوگوں نے اس کی غیبت کی ہے ۔ “ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ، اور ایک قول کے مطابق حماد ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔