مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغِيبَةِ وَالنَّمِيمَةِ باب: غیبت کرنے اور چغلی کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : صَلَّيْنَا الظُّهْرَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ ، أَقْبَلَ عَلَيْنَا غَضْبَانَ ، فَنَادَى بِصَوْتٍ أَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ فِي أَجْوَافِ الْخُدُورِ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ مَنْ أَسْلَمَ فَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قَلْبِهِ ، لَا تَذُمُّوا الْمُسْلِمِينَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ ، فَإِنَّهُ مَنْ تَطَلَّبَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ هَتَكَ اللَّهُ سِتْرَهُ ، وَأَبْدَى عَوْرَتَهُ ، وَلَوْ كَانَ فِي سِتْرِ بَيْتِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ وَقَالَ بَدَلَ : " لَا تَذُمُّوا الْمُسْلِمِينَ " : " لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ " ، وَفِيهِ رُمَيْحُ بْنُ هِلَالٍ الطَّائِيُّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَجْهُولٌ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ أَبِي تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنِ وَاضِحٍ . ¤سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر کی نماز ادا کی ، جب آپ نماز پڑھ کے فارغ ہوئے ، تو آپ غصے کے عالم میں ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بلند آواز میں آپ نے ارشاد فرمایا : جو آواز گھروں میں موجود خواتین تک بھی جا رہی تھی ، آپ نے فرمایا : ” اے وہ گروہ جس نے اسلام قبول کر لیا ہے لیکن ایمان اس کے دل میں داخل نہیں ہوا ہے ، تم لوگ مسلمانوں کی مذمت نہ کرو ، ان کے پوشیدہ معاملات کی جستجو نہ کرو کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے پوشیدہ معاملے کی جستجو کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے پردے کو پھاڑ دے گا اور اس کے پوشیدہ معاملے کو ظاہر کر دے گا ، خواہ وہ اپنے گھر کے پردے میں موجود ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ ” تم مسلمانوں کی مذمت نہ کرو “ اس کی جگہ یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” تم مسلمانوں کو اذیت نہ پہنچاؤ ۔ “ اس کی سند میں ایک راوی رمیح بن ہلال طائی ہے ۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔ ابوتمیلہ یحیی بن واضح کے علاوہ اور کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ۔