مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغِيبَةِ وَالنَّمِيمَةِ باب: غیبت کرنے اور چغلی کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا أُمَاشِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي ، وَبِرَجُلٍ عَنْ يَسَارِهِ ، فَإِذَا نَحْنُ بِقَبْرَيْنِ أَمَامَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ ، وَقَالَ : بَلَى كَانَ أَحَدُهُمَا لَا يَسْتَبْرِئُ مِنْ بَوْلِهِ ، وَكَانَ الْآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ؛ فَأَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِجَرِيدَةٍ ؟ " . فَاسْتَبَقْنَا فَسَبَقْتُهُ ، فَأَتَيْتُهُ بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا نِصْفَيْنِ ، فَأَلْقَى عَلَى ذَا الْقَبْرِ قِطْعَةً ، وَعَلَى ذَا الْقَبْرِ قِطْعَةً ، قَالَ : " إِنَّهُ يُهَوَّنُ عَلَيْهِمَا مَا كَانَتَا رَطْبَتَيْنِ ، وَمَا يُعَذَّبَانِ إِلَّا فِي الْغِيبَةِ وَالْبَوْلِ " . قُلْتُ : عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ بَعْضُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بَحْرِ بْنِ مَرَّارٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، آپ کی بائیں طرف ایک اور شخص تھا ، ہمارے سامنے دو قبریں آئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور ان دونوں کو ( بظاہر ) کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ( یعنی ایسا بڑا گناہ جس سے بچنا مشکل ہو ) تم میں سے کون شخص میرے پاس ایک شاخ لے کر آئے گا ۔ راوی کہتے ہیں : ہم دونوں گئے اور میں اپنے ساتھی سے پہلے شاخ لے کے آ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور ایک قبر پر ایک ٹکڑا رکھ دیا اور دوسری قبر پر دوسرا ٹکڑا رکھ دیا اور ارشاد فرمایا : جب تک یہ دونوں تر رہیں گی ، ان دونوں کے عذاب میں تخفیف رہے گی ، اور ان دونوں کو غیبت کرنے اور پیشاب ( کے چھینٹوں سے ) نہ بچنے کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف بحر بن مرار کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔