مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغِيبَةِ وَالنَّمِيمَةِ باب: غیبت کرنے اور چغلی کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِنَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَظَرَ فِي النَّارِ ، فَإِذَا قَوْمٌ يَأْكُلُونَ الْجِيَفَ قَالَ : " مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ ؟ " . قَالَ : هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ . وَرَأَى رَجُلًا أَحْمَرَ أَزْرَقَ جَعْدًا ( شَعْثًا إِذَا رَأَيْتَهُ ) ، قَالَ : " مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ " . قَالَ : هَذَا عَاقِرُ النَّاقَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ قَابُوسٌ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم میں دیکھا تو وہاں کچھ لوگ تھے جو مردار کھا رہے تھے ، آپ نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جو لوگوں کا گوشت کھایا کرتے تھے ، پھر آپ نے ایک شخص کو دیکھا جو نیلی آنکھوں ، بکھرے ہوئے گھنگھریالے بالوں والا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے جبرائیل یہ کون ہے ؟ انہوں نے یہ بتایا : یہ ( سیدنا صالح علیہ السلام ) اونٹنی کے پاؤں کاٹنے والا شخص ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قابوس ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔