حدیث نمبر: 13108
وَعَنْ قُرَّةَ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ سِيرِينَ : هَلْ كَانُوا يَتَمَازَحُونَ ؟ قَالَ : مَا كَانُوا إِلَّا كَالنَّاسِ ، كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمْزَحُ وَيُنْشِدُ : ¤ يُحِبُّ الْخَمْرَ مِنْ مَالِ النَّدَامَى وَيَكْرَهُ أَنْ تُفَارِقَهُ الْفُلُوسُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي حُسْنِ خُلُقِهِ
محمد محی الدین

قرہ بیان کرتے ہیں : میں نے ابن سیرین سے دریافت کیا : کیا وہ لوگ ( یعنی صحابہ کرام ) ایک دوسرے کے ساتھ مزاح کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : وہ لوگ بھی دوسرے لوگوں کی طرح تھے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزاح کرتے ہوئے یہ شعر سناتے تھے : ” وہ دوستوں کے مال کے ذریعے شراب پینے کو پسند کرتا ہو اور اس بات کو ناپسند کرتا ہو کہ ( اس کے اپنے ) سکّے اس سے جدا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث نبوت کی علامات سے متعلق کتاب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی اچھائی سے متعلق باب میں آئے گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13108
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13066)»