مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمِزَاحِ باب: مزاح کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ قُرَّةَ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ سِيرِينَ : هَلْ كَانُوا يَتَمَازَحُونَ ؟ قَالَ : مَا كَانُوا إِلَّا كَالنَّاسِ ، كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمْزَحُ وَيُنْشِدُ : ¤ يُحِبُّ الْخَمْرَ مِنْ مَالِ النَّدَامَى وَيَكْرَهُ أَنْ تُفَارِقَهُ الْفُلُوسُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي حُسْنِ خُلُقِهِقرہ بیان کرتے ہیں : میں نے ابن سیرین سے دریافت کیا : کیا وہ لوگ ( یعنی صحابہ کرام ) ایک دوسرے کے ساتھ مزاح کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : وہ لوگ بھی دوسرے لوگوں کی طرح تھے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزاح کرتے ہوئے یہ شعر سناتے تھے : ” وہ دوستوں کے مال کے ذریعے شراب پینے کو پسند کرتا ہو اور اس بات کو ناپسند کرتا ہو کہ ( اس کے اپنے ) سکّے اس سے جدا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث نبوت کی علامات سے متعلق کتاب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی اچھائی سے متعلق باب میں آئے گی ۔