مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ باب: ارواح گروہوں کی شکل میں ہوتی ہیں ان میں سے جو متعارف ہوں ان میں الفت ہوتی ہے
وَعَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ : كَانَتِ امْرَأَةٌ بِمَكَّةَ مَزَّاحَةً ، فَنَزَلَتْ عَلَى امْرَأَةٍ شَبَهًا لَهَا ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ : صَدَقَ حِبِّي ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ " . قَالَ : وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا قَالَ فِي الْحَدِيثِ : وَلَا تعْرِفُ تِلْكَ الْمَرْأَةَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عمرہ بنت عبدالرحمن بیان کرتی ہیں : مکہ میں ایک خاتون تھی جن کے مزاج میں مزاح کا عنصر تھا ، وہ اپنے جیسی ایک خاتون کے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہری ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے فرمایا : میرے محبوب نے سچ فرمایا تھا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ارواح ( عالم ارواح میں ) مختلف گروہوں کی شکل میں رہتی ہیں ، جو ان میں سے ( عالم ارواح میں ) ایک دوسرے سے آشنا ہوتی ہیں وہ ( دنیا میں بھی ) ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں ، اور جو ( عالم ارواح میں ) ایک دوسرے سے ناآشنا ہوتی ہیں وہ ( دنیا میں بھی ) ایک دوسرے سے لاتعلق ہوتی ہیں ۔ “ راوی کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ وہ خاتون اس دوسری خاتون سے پہلے سے واقف نہیں تھی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔