مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ باب: ارواح گروہوں کی شکل میں ہوتی ہیں ان میں سے جو متعارف ہوں ان میں الفت ہوتی ہے
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ : انْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ الْمَدَائِنَ ، فَإِذَا أَنَا بَرَجُلٍ عَلَيْهِ ثِيَابٌ خُلْقَانٌ ، وَمَعَهُ أَدِيمٌ أَحْمَرُ يَعْرِكُهُ ، فَالْتَفَتَ فَنَظَرَ إِلَيَّ ، فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ : مَكَانَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ . فَقُمْتُ ، فَقُلْتُ لِمَنْ كَانَ عِنْدِي : مَنْ هَذَا الرَّجُلُ ؟ قَالُوا : هَذَا سَلْمَانُ ، فَدَخَلَ بَيْتَهُ فَلَبِسَ ثِيَابًا بَيَاضًا ، ثُمَّ أَقْبَلَ ، وَأَخَذَ بِيَدِي ، وَصَافَحَنِي وَسَايَلَنِي ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، مَا رَأَيْتَنِي فِيمَا مَضَى وَلَا رَأَيْتُكَ ، وَلَا عَرَفْتَنِي وَلَا عَرَفْتُكَ . قَالَ : بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ عَرَفَتْ رُوحِي رُوحَكَ حِينَ رَأَيْتُكَ ، أَلَسْتَ الْحَارِثَ بْنَ عُمَيْرَةَ ؟ قُلْتُ : بَلَى قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا فِي اللَّهِ ائْتَلَفَ ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا فِي اللَّهِ اخْتَلَفَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ بِاخْتِصَارٍ . وَفِي إِسْنَادِ هَذَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . وَفِي بَقِيَّتِهَا الْحَجَّاجُ بْنُ فُرَافِصَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَأَبُو عَمْرٍو أَوْ أَبُو عُمَيْرٍ الرَّاوِي عَنْ سَلْمَانَ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ إِسْنَادَيِ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ . ¤حارث بن عمیرہ بیان کرتے ہیں : میں روانہ ہوا یہاں تک کہ میں مدائن آیا ، وہاں ایک شخص موجود تھا ، جس کے جسم پر پرانے کپڑے موجود تھے اور اس کے پاس سرخ چمڑا تھا ، جسے وہ مل رہا تھا ، اس نے توجہ کی اور میری طرف دیکھا ، اس نے مجھے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا : اے اللہ کے بندے ! تم اپنی جگہ پر رہو ! میں کھڑا ہو گیا ، میں نے اپنے پاس موجود شخص سے دریافت کیا : یہ صاحب کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : یہ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے ، انہوں نے سفید کپڑے پہنے پھر وہ تشریف لائے ، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا ، میرے ساتھ مصافحہ کیا ، میرا حال چال پوچھا: ، میں نے کہا: اے ابوعبداللہ ! آپ نے مجھ کو پہلے کبھی نہیں دیکھا اور میں نے بھی آپ کو نہیں دیکھا ، نہ آپ مجھ سے واقف ہیں اور نہ میں آپ سے واقف ہوں ۔ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میری روح نے تمہاری روح کو اس وقت پہچان لیا ، جب میں نے تمہیں دیکھا ، کیا تم حارث بن عمیرہ نہیں ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ( عالم ارواح میں ) روحیں مختلف گروہوں کی شکل میں ہوتی ہیں ، جو ( عالم ارواح میں ) اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے آشنا ہوتی ہیں ، ان کے درمیان ( دنیا میں ) الفت ہوتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک دوسرے سے ناآشنا ہوتی ہے ان کے درمیان ( دنیا میں ) لاتعلقی رہتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے اور وہ متروک ہے ۔ اس کی دوسری روایت میں ایک راوی حجاج بن فرافصہ ہے جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، ایک راوی ابوعمرو یا ابوعمیر ہے ، جس نے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے
یہ روایت نقل کی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، معجم کبیر کی دو اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔