مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا . باب: اونٹ کا گوشت کھانے یا اُس کا دودھ پینے کے بعد وضو کرنا
حدیث نمبر: 1309
وَعَنْ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : إِنَّا أَهْلُ بَادِيَةٍ وَمَاشِيَةٍ ، فَهَلْ نَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قُلْتُ : فَهَلْ نَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ وَأَلْبَانِهَا ؟ قَالَ : " لَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول سے سوال کیا : میں نے کہا: ہم ویرانوں میں اور جانوروں میں رہنے والے لوگ ہیں ، تو کیا ہم اونٹوں کا گوشت کھا کر ، یا ان کا دودھ پی کر وضو کریں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! میں نے دریافت کیا : کیا ہم بکریوں کا گوشت کھا کر یا اُن کا دودھ پی کر وضو کریں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی نہیں !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہو گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔