مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ لَا فَضْلَ لِأَحَدٍ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا بِالتَّقْوَى باب: کسی شخص کو کسی دوسرے پر فضیلت حاصل نہیں ہے البتہ تقویٰ کا معاملہ مختلف ہے
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ ، وَأَبَاكُمْ وَاحِدٌ ، فَلَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ ، وَلَا أَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ إِلَّا بِالتَّقْوَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ ، وَإِنَّ دِينَكُمْ وَاحِدٌ ، أَبُوكُمْ آدَمُ ، وَآدَمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ " . ¤ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارا پروردگار ایک ہے ، تمہارے جدامجد ایک ہیں ، کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت حاصل نہیں ہے اور کسی سرخ ( یعنی سفید فام ) کو کسی سیاہ فام پر برتری حاصل نہیں ہے ، البتہ تقویٰ کے حوالے سے ( برتری ہونے کا ) معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” تمہارے جدامجد ایک ہیں اور تمہارا دین ایک ہے ، تمہارے جدامجد سیدنا آدم علیہ السلام ہیں اور سیدنا آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا گیا ۔ “ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔