حدیث نمبر: 13067
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ - قَالَ : ¤ " يَقُولُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : مَنْ تَوَاضَعَ لِي هَكَذَا - وَجَعَلَ يَزِيدُ بَاطِنَ كَفِّهِ إِلَى الْأَرْضِ وَأَدْنَاهَا إِلَى الْأَرْضِ - رَفَعْتُهُ هَكَذَا - وَجَعَلَ بَاطِنَ كَفَّيْهِ إِلَى السَّمَاءِ ، وَرَفَعَهُمَا نَحْوَ السَّمَاءِ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَلَفْظُهُ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى الْمِنْبَرِ : أَيُّهَا النَّاسُ تَوَاضَعُوا; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللَّهُ وَقَالَ : انْتَعِشْ نَعَشَكَ اللَّهُ ، فَهُوَ فِي أَعْيُنِ النَّاسِ عَظِيمٌ وَفِي نَفْسِهِ صَغِيرٌ ، وَمَنْ تَكَبَّرَ قَصَمَهُ اللَّهُ وَقَالَ : اخْسَأْ ، فَهُوَ فِي أَعْيُنِ النَّاسِ صَغِيرٌ وَفِي نَفْسِهِ كَبِيرٌ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ سَعِيدُ بْنُ سَلَامٍ الْعَطَّارُ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے اور شاید یہ مرفوع حدیث ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : جو شخص میرے لئے اس طرح تواضع اختیار کرتا ہے ، یہاں یزید نامی راوی نے اپنی ہتھیلی زمین کی طرف کی اور اسے زمین کے قریب کر دیا ( اور پھر یہ الفاظ نقل کے : ) میں اسے اس طرح بلند کرتا ہوں ، پھر انہوں نے اپنی ہتھیلی آسمان کی طرف کی اور دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر دیے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ان کے الفاظ یہ ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر یہ بات بیان کی : ” اے لوگو ! تواضع اختیار کرو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُسے سربلندی عطا کرتا ہے اور وہ فرماتا ہے : تم قائم ( یا سیدھے ) ہو جاؤ ! اللہ تعالیٰ تمہیں قائم ( یا سیدھا ) رکھے ، تو ایسا شخص لوگوں کی نظروں میں بڑا ہوتا ہے ، اور اپنے من میں چھوٹا ہے ، اور جو شخص تکبر اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کاٹ دیتا ہے اور فرماتا ہے : تم رسوا ہو جاؤ ، تو وہ لوگوں کی نظروں میں چھوٹا ہوتا ہے ، اور خود کو بڑا سمجھ رہا ہوتا ہے ۔ “
امام أحمد کے رجال اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اور امام طبرانی کی سند میں ایک راوی سعید بن سلام عطار ہے اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13067
درجۂ حدیث محدثین: ورجال أحمد والبزار رجال الصحيح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (187) اخرجه احمد فى المسند (309)»