حدیث نمبر: 13056
وَعَنْ أَبِي كَاهِلٍ قَالَ : ¤ وَقَعَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَلَامٌ حَتَّى تَصَارَمَا ، فَلَقِيتُ أَحَدَهُمَا فَقُلْتُ : مَا لَكَ وَلِفُلَانٍ ؟ قَدْ سَمِعْتُهُ يُحْسِنُ عَلَيْكَ الثَّنَاءَ ، وَيُكْثِرُ لَكَ مِنَ الدُّعَاءِ . وَلَقِيتُ الْآخَرَ فَقُلْتُ لَهُ نَحْوَ ذَلِكَ ، فَمَا زِلْتُ أَمْشِي بَيْنَهُمَا حَتَّى اصْطَلَحَا . فَقُلْتُ : مَا فَعَلْتُ ؟ أَهْلَكْتُ نَفْسِي ، وَأَصْلَحْتُ بَيْنَهُمَا . فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ بِالْأَمْرِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا سَمِعْتُ مِنْ ذَا شَيْئًا وَلَا مِنْ ذَا شَيْئًا . فَقَالَ : " يَا أَبَا كَاهِلٍ ، أَصْلِحْ بَيْنَ النَّاسِ وَلَوْ بِكَذَا وَكَذَا - كَلِمَةٌ لَمْ أَفْهَمْهَا - فَقُلْتُ : مَا عَنَى بِهَا ؟ قَالَ : عَنَى الْكَذِبَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوکاہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو افراد کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور وہ ایک دوسرے سے ناراض ہو گئے ، میری ان دو میں سے ایک سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہا: کیا وجہ ہے تم فلاں سے کیوں ناراض ہو جبکہ میں نے تو اسے تمہاری تعریف کرتے ہوئے سنا ہے ، اور وہ تمہارے لئے بکثرت دعا کر رہا تھا ، پھر میری دوسرے شخص سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس سے بھی اس کی مانند بات کہی ، میں مسلسل ان دونوں کے درمیان آتا جاتا رہا ، یہاں تک کہ ان دونوں کے درمیان صلح ہو گئی ، پھر میں نے سوچا کہ یہ میں نے کیا کیا ہے ؟ میں نے اپنے آپ کو ہلاکت کا شکار کر لیا ہے ، اور ان دونوں کے درمیان صلح کروا دی ہے ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، نہ میں نے اس سے کچھ سنا ہے اور نہ میں نے دوسرے سے کچھ سنا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوکاہل ! لوگوں کے درمیان صلح کرواؤ ، خواہ اس اس کے عوض میں اسی طرح کرواؤ ، راوی کہتے ہیں : اس کی مانند کوئی کلمہ تھا ، جسے میں سمجھ سکا ، میں نے دریافت کیا : اس کے ذریعے آپ کی مراد کیا تھی ، تو انہوں نے فرمایا : اس سے مراد غلط بیانی کرنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13056
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (361/18)»