مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا نُهِيَ عَنْ سَبِّهِ مِنَ الدَّوَابِّ وَمَا يَفْعَلُ بِالدَّابَّةِ إِذَا أُجِيبَ فِي لَعْنِهَا باب: اس چیز کی ممانعت کہ جانوروں کو برا کہا جائے اور جب کسی جانور کے ساتھ ایسا ہو جائے اور اس کے بارے میں لعنت مقبول ہو ( تو کیا کیا جائے )
حدیث نمبر: 13040
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّ دِيكًا صَرَخَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَبَّهُ رَجُلٌ ، فَنَهَى عَنْ سَبِّ الدِّيكِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَلْعَنْهُ وَلَا تَسُبَّهُ ، فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزِّنْجِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرغ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بانگ دی ، ایک شخص نے اسے برا کہا: ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرغ کو برا کہنے سے منع کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” تم اس پر لعنت نہ کرو اور اسے برا نہ کہو کیونکہ یہ نماز کی طرف بلاتا ہے ۔ “ امام بزار کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔