مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا نُهِيَ عَنْ سَبِّهِ مِنَ الدَّوَابِّ وَمَا يَفْعَلُ بِالدَّابَّةِ إِذَا أُجِيبَ فِي لَعْنِهَا باب: اس چیز کی ممانعت کہ جانوروں کو برا کہا جائے اور جب کسی جانور کے ساتھ ایسا ہو جائے اور اس کے بارے میں لعنت مقبول ہو ( تو کیا کیا جائے )
حدیث نمبر: 13037
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ ، فَلَعَنَ رَجُلٌ نَاقَةً ، فَقَالَ : " أَيْنَ صَاحِبُ النَّاقَةِ ؟ " . فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا . فَقَالَ : " أَخِّرْهَا ، فَقَدَ : أُجِبْتَ فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے ایک شخص نے اونٹنی پر لعنت کی ، آپ نے دریافت کیا : اونٹنی والا شخص کہاں ہے ؟ ایک شخص نے عرض کی : میں ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے پیچھے کر دو کیونکہ اس کے بارے میں تمہاری ( لعنت مستجاب ) ہوئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔