مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ . باب: آگ پر پکی ہوئی چیز ( کھا لینے ) کے بعد وضو کرنا
وَلَهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الْقَارِئِ ، وَسَمَّاهُ فِي الْحَدِيثِ قَبْلَهُ ، وَهُوَ يَحْيَى بْنُ جَعْدَةَ ، وَابْنُ عَبْدِ الْقَارِئِ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْقَارِئِ نِسْبَةً إِلَى جَدِّهِ . ¤ وَعَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرَةَ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ جُبَيْرَةَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرَةَ بْنِ مَحْمُودٍ .اُن کے حوالے سے امام طبرانی نے یہ روایت نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” آگ پر پکی ہوئی چیز کھا لینے کے بعد وضو کر لو ! “ ۔
اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ عمرو بن دینار نے یہ بات بیان کی ہے : مجھے اُس شخص نے یہ روایت بیان کی ہے ، جس نے عبداللہ بن عبدقاری کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، اس سے پہلے والی حدیث میں اُنہوں نے اس طرح نام بیان کیا تھا ، اور وہ یحیی بن جعدہ ہے ، جبکہ ابن عبدقاری سے مراد ، عبداللہ بن عمرو بن عبدقاری ہے ، جس کی نسبت اس کے دادا کی طرف کی گئی ہے ، یہ روایت زید بن جبیرہ بن محمود بن جبیرہ ، جن کا تعلق بنو عبدالاشہل سے ہے ، یہ ان کے حوالے سے ، اُن کے والد جبیرہ بن محمود سے منقول ہے ۔