حدیث نمبر: 13027
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ ، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُحِبُّ الْغَنِيَّ الْحَلِيمَ الْمُتَعَفِّفَ ، وَيُبْغِضُ الْبَذِيءَ الْفَاجِرَ السَّائِلَ الْمُلِحَّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بندہ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوتا جب تک اس کا پڑوسی اس کی زیادتیوں سے محفوظ نہ ہو ، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے بھلائی کی بات کہنی چاہیے یا خاموش رہنا چاہئے ، ہے شک اللہ تعالیٰ خوشحال بردبار پاکدامن شخص کو پسند کرتا ہے ، اور وہ بدزبان گنہگار مانگنے والے لپٹ جانے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13027
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2031)»