مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ الْمُسْلِمِ ، كَالْمُشْرِفِ عَلَى الْهَلَكَةِ " . باب: اس شخص کا بیان جو کسی مسلمان پر لعنت کرتا ہے یا اس پر کفر کا الزام لگاتا ہے
حدیث نمبر: 13014
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ إِلَّا وَبَيْنَهُمَا سِتْرٌ مِنَ اللَّهِ ، فَإِذَا قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ هَجْرًا ، هَتْكَ سِتْرَهُ ، وَإِذَا قَالَ : يَا كَافِرٌ ، فَقَدْ كَفَرَ أَحَدُهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر دو مسلمانوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پردہ ہوتا ہے ، جب ان میں سے کوئی ایک شخص دوسرے کو بری بات کہتا ہے ، تو وہ پردہ پھٹ جاتا ہے ، اور جب وہ یہ کہہ دے اے کافر ! تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، جس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ اس راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے امام بزار کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔