مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ باب: اس شخص کا بیان جو غصے کے وقت اپنے اوپر قابو رکھے
وَعَنْ رَجُلٍ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ فَقَالَ : ¤ " تَدْرُونَ مَا الرَّقُوبُ ؟ " . قَالُوا : الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ . فَقَالَ : " الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ ، الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ الرَّقُوبُ كُلُّ الرَّقُوبِ ، الَّذِي لَهُ وَلَدٌ فَمَاتَ ، وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُنَّ شَيْئًا " . ¤ قَالَ : " تَدْرُونَ مَا الصُّعْلُوكُ ؟ " . قَالُوا : الَّذِي لَيْسَ لَهُ مَالٌ . قَالَ : " الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ ، الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ ، الصُّعْلُوكُ كُلُّ الصُّعْلُوكِ ، الَّذِي لَهُ مَالٌ فَمَاتَ ، وَلَمْ يُقَدِّمْ مِنْهُ شَيْئًا " . ¤ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا الصُّرَعَةُ ؟ " . قَالُوا : الصَّرِيعُ . قَالَ : " الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ ، الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ ، الصُّرَعَةُ كُلُّ الصُّرَعَةِ ، الرَّجُلُ الَّذِي يَغْضَبُ فَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ ، وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ ، وَيَقْشَعِرُّ شَعْرُهُ ، فَيَصْرَعُ غَضَبَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو حَصْبَةَ أَوِ ابْنُ حَصْبَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ایک صحابی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے میں موجود تھے وہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” کیا تم لوگ جانتے ہو رقوب ( یعنی لاولد ) کسے کہتے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : اس کو جس کی اولاد نہ ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رقوب جو مکمل طور پر رقوب ہو ، جو مکمل طور پر رقوب ہو ، وہ رقوب جو مکمل طور پر رقوب ہو ، یہ وہ ہوتا ہے جس کی اولاد ہو اور وہ شخص مر جائے اور اس نے ان ( یعنی اولاد ) میں سے کسی کو آگے نہ بھیجا ہو ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو صعلوک ( یعنی کنگال ) کون ہوتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : وہ شخص جس کے پاس مال نہ ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ کنگال جو مکمل کنگال ہو ، وہ کنگال جو مکمل کنگال ہو ، وہ کنگال جو مکمل کنگال ہو ، یہ وہ شخص ہے جس کے پاس مال موجود ہو اور وہ مر جائے اور اس نے اس مال میں سے کچھ بھی آگے نہ بھیجا ہو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو طاقت کیا ہوتی ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جو پہلوان میں ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ طاقت جو مکمل طاقت ہو ، وہ طاقت جو مکمل طاقت ہو ، وہ طاقت جو مکمل طاقت ہو ، وہ اس شخص کی ہوتی ہے جو غصے میں آئے اور اس کا غضب شدید ہو جائے ، اس کا چہرہ سرخ ہو جائے ، اس کے بال کپکپانے لگیں اور اس وقت وہ اپنے غصے پر ق ابوپا لے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحصبہ یا ابن حصبہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔