حدیث نمبر: 12982
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِقَوْمٍ يَصْطَرِخُونَ فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فُلَانٌ الصَّرِيعُ ، مَا يُصَارِعُ أَحَدًا إِلَّا صَرَعَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَفَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ ؟ رَجُلُ ظَلَمَهُ رَجُلٌ ، فَكَظَمَ غَيْظَهُ ، فَغَلَبَهُ وَغَلَبَ شَيْطَانَهُ ، وَغَلَبَ شَيْطَانَ صَاحِبِهِ " . ¤ رَوَاهُمَا الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ وَاحِدٍ ، وَفِيهِ شُعَيْبُ بْنُ بَيَانٍ وَعِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، وَوَثَّقَهُمَا ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُمَا غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ان صحابی کے حوالے سے منقول ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جو ایک دوسرے کے ساتھ کشتی کر رہے تھے ، آپ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ فلاں پہلوان ہے ، جو شخص اس کے مقابلے میں آتا ہے یہ شخص اسے پچھاڑ دیتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہاری رہنمائی اس شخص کی طرف نہ کروں جو اس شخص سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے ؟ وہ شخص جس کے ساتھ کوئی دوسرا شخص زیادتی کرے اور وہ شخص اپنے غصے پر ق ابوپا لے ، وہ شخص اپنے اوپر بھی غالب آ جاتا ہے اور اپنے شیطان پر بھی غالب آ جاتا ہے ، اور اپنے ساتھی کے شیطان پر بھی غالب آ جاتا ہے ۔ “ یہ دونوں روایات امام بزار نے ایک ہی سند کے ساتھ نقل کی ہیں ان کی سند میں ایک راوی شعیب بن بیان ہے اور ایک راوی عمران قطان ہے ۔ ابن حبان نے ان دونوں کو ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسرے حضرات نے ان دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے ، اور ان دونوں روایات کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12982
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2054)»