مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ باب: دو آدمی ، تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی میں بات چیت نہ کریں
حدیث نمبر: 12952
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ ؛ فَإِنَّ ذَلِكَ يُؤْذِي الْمُؤْمِنَ ، وَاللَّهُ يَكْرَهُ أَذَى الْمُؤْمِنِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ كَثِيرٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الْوَرْدِ اسْمُهُ وُهَيْبُ بْنُ الْوَرْدِ ، كَمَا ذَكَرَ شَيْخُ الْحُفَّاظِ الْمِزِّيُّ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو افراد تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی میں بات نہ کریں کیونکہ یہ چیز مومن کو تکلیف دیتی ہے ، اور اللہ تعالیٰ مومن کو تکلیف دینے کو ناپسند کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حسن بن کثیر کا معاملہ مختلف ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے عبدالوہاب بن ورد کا نام وہیب بن ورد ہے جیسا کہ حافظان حدیث کے استاد امام مزی نے یہ بات ذکر کی ہے ۔