مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ الْجُلُوسِ عَلَى الصَّعِيدِ وَإِعْطَاءِ الطَّرِيقِ حَقَّهُ باب: میدان میں بیٹھنا اور راستے کو اس کا حق دینا
حدیث نمبر: 12939
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حَنِيفٍ قَالَ : قَالَ أَهْلُ الْعَالِيَةِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا بُدَّ لَنَا مِنْ مَجَالِسَ . قَالَ : " فَأَدُّوا حَقَّ الْمَجَالِسَ " . قَالُوا : وَمَا حَقُّ الْمَجَالِسِ ؟ قَالَ : " ذِكْرُ اللَّهِ كَثِيرًا ، وَإِرْشَادُ السَّبِيلِ ، وَغَضُّ الْأَبْصَارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ ، تَابِعِيٌّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بالائی علاقے کے رہنے والوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے لئے اس طرح بیٹھنے کے بغیر چارہ نہیں ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : محافل کا حق ادا کرو ۔ لوگوں نے عرض کی : محافل کا حق کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرنا ، راستے کے بارے میں رہنمائی کرنا اور نگاہیں جھکا کے رکھنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عبدالرحمن انصاری ہے ، جو تابعی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔