مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ عَطَسَ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ باب: اس شخص کا بیان جو چھینکتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ حمد کا بیان نہیں کرتا ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : ¤ عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَدُهُمَا أَشْرَفُ مِنَ الْآخَرِ ، فَعَطَسَ الشَّرِيفُ فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ ، فَلَمْ يُشَمِّتْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَطَسَ الْآخَرُ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ قَالَ : فَقَالَ الشَّرِيفُ : عَطَسْتُ عِنْدَكَ فَلَمْ تُشَمِّتْنِي ، وَعَطَسَ هَذَا عِنْدَكَ فَشَمَّتَّهُ ؟ قَالَ : فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا ذَكَرَ اللَّهَ فَذَكَرْتُهُ ، وَأَنْتَ نَسِيتَ اللَّهَ فَنَسِيتُكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رِبْعِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود دو افراد کو چھینک آئی ، ان میں سے ایک شخص دوسرے سے نمایاں حیثیت رکھتا تھا ، نمایاں حیثیت رکھنے والے شخص نے چھینکا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب بھی نہیں دیا ، دوسرے شخص نے چھینکا ، اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا ( یعنی جوابی دعا دی ) تو اس نمایاں حیثیت کے شخص نے کہا: میں نے آپ کے پاس چھینکا لیکن آپ نے مجھے جواب نہیں دیا ، لیکن اس شخص نے آپ کے پاس چھینکا تو آپ نے اسے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس شخص نے اللہ کا ذکر کیا تھا تو میں نے اس کا ذکر کیا اور تم اللہ تعالیٰ ( کا ذکر کرنا ) بھول گئے تھے ، تو میں بھی تمہیں بھول گیا ( یعنی میں نے تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دیا ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ربعی بن ابراہیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور مامون ہے ۔