مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ تَغْيِيرِ الْأَسْمَاءِ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ فِيهَا وَمَا يُسْتَحَبُّ باب: نام تبدیل کر دینا ، اور جن ناموں کو رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، اور جن کو مستحب قرار دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 12865
وَعَنِ الْجَهْدَمَةِ امْرَأَةِ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ قَالَتْ : ¤ كَانَ اسْمُ بَشِيرٍ زَحَمَ ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَشِيرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ جہدمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کا نام پہلے زحم تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب ہے اور وہ مدلس ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔