مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ تَغْيِيرِ الْأَسْمَاءِ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ فِيهَا وَمَا يُسْتَحَبُّ باب: نام تبدیل کر دینا ، اور جن ناموں کو رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، اور جن کو مستحب قرار دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 12858
وَعَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيِّ قَالَ : ¤ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِيُّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا اسْمُكَ ؟ " . قَالَ : شَيْطَانُ بْنُ قُرْطٍ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
مسلم بن عبدالله ازدی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن قرط ازدی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : شیطان بن قرط ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عبداللہ بن قرط ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔