مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ تَغْيِيرِ الْأَسْمَاءِ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ فِيهَا وَمَا يُسْتَحَبُّ باب: نام تبدیل کر دینا ، اور جن ناموں کو رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، اور جن کو مستحب قرار دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 12856
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : ¤ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُسَمِّيَ الرَّجُلُ عَبْدَهُ أَوْ وَلَدَهُ حَارِثًا ، أَوْ مُرَّةَ ، أَوْ وَلِيدًا ، أَوْ حَكَمًا ، أَوْ أَبَا الْحَكَمِ ، أَوْ أَفْلَحَ ، أَوْ نَجِيحًا ، أَوْ يَسَارًا . ¤ وَقَالَ : " أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا يُعَبَّدُ بِهِ ، وَأَصْدَقُ الْأَسْمَاءِ هَمَّامٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ الْعُكَاشِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص اپنے غلام یا اپنے بیٹے کا نام حارث یا مرہ یا ولید یا حکم یا ابوالحکم یا افلح یا نجیح یا یسار رکھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام وہ ہے ، جس کے ذریعے اس کی عبدیت کا اظہار ہوتا ہو ، اور سب سے زیادہ سچا نام ہمام ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصن عکاشی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔