مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي اسْمِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكُنْيَتِهِ باب: نبی اکرم ﷺ کے نام اور آپ کی کنیت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ : حَدَّثَنِي ظِئْرُ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ قَالَ : لَمَّا وُلِدَ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا سَمَّيْتُمُوهُ ؟ " . قُلْنَا : مُحَمَّدٌ . قَالَ : " هَذَا اسْمِي ، وَكُنْيَتُهُ أَبُو الْقَاسِمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو شَيْبَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وُلِدَ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا وَكَنَّاهُ أَبَا الْقَاسِمِ . ¤عیسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں : محمد بن طلحہ کی دائی ماں بیان کرتی ہیں کہ جب محمد بن طلحہ پیدا ہوئے ، تو میں انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم لوگ اس کا کیا نام رکھو گے ؟ ہم نے عرض کی : محمد ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ میرے نام کے مطابق ہے اور اس کی کنیت ابوالقاسم ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عثمان بن ابوشیبہ ہے اور وہ متروک ہے ۔ امام طبرانی کہتے ہیں : سیدنا محمد بن طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں پیدا ہوئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام محمد رکھا تھا ، اور ان کی کنیت ابوالقاسم تجویز کی تھی ۔