مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي اسْمِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكُنْيَتِهِ باب: نبی اکرم ﷺ کے نام اور آپ کی کنیت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنَ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ : نَظَرَ عُمَرُ إِلَى ابْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ - وَكَانَ اسْمُهُ مُحَمَّدًا - وَرَجُلٌ يَقُولُ لَهُ : فَعَلَ اللَّهُ بِكَ يَا مُحَمَّدُ . فَسَمَّاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى بَنِي طَلْحَةَ وَهُمْ سَبْعَةٌ ، سَيِّدُهُمْ وَكَبِيرُهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ فَغَيَّرَ أَسْمَاءَهُمْ ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ : أُذَكِّرُكَ اللَّهَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَوَاللَّهِ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَّانِي . فَقَالَ : قُومُوا ، فَلَا سَبِيلَ إِلَى شَيْءٍ سَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالحمید کے بیٹے کی طرف دیکھا ، اس کا نام محمد تھا ، اور وہ شخص اس سے یہ کہہ رہا تھا : اے محمد ! اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ یہ کرے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا نام عبدالرحمن رکھ دیا ، پھر انہوں نے بنو طلحہ کو پیغام بھیجا ، وہ سات افراد تھے ، ان سب کے سردار اور ان سب کے بڑے محمد بن طلحہ تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے نام تبدیل کیے ، تو محمد بن طلحہ نے کہا: اے امیرالمؤمنین میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں ( کہ آپ ایسا نہ کریں ) کیونکہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا یہ نام رکھا ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اٹھ جاؤ ! کیونکہ جس کا نام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تجویز کیا ہو اسے ( تبدیل کرنے کی ) کوئی صورت نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اور امام أحمد نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔