مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي اسْمِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكُنْيَتِهِ باب: نبی اکرم ﷺ کے نام اور آپ کی کنیت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَالَةَ - يَعْنِي الظَّفَرِيَّ - قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا ابْنُ أُسْبُوعَيْنِ ، فَأُتِيَ بِي إِلَيْهِ ، فَمَسَحَ عَلَى رَأْسِي وَقَالَ : ¤ " سَمُّوهُ بِاسْمِي ، وَلَا تُكَنُّوهُ بِكُنْيَتِي " . ¤ وَحُجَّ بِي مَعَهُ حِجَّةَ الْوَدَاعِ ، وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ ، فَلَقَدْ عَمَّرَ مُحَمَّدٌ حَتَّى شَابَ رَأْسُهُ ، وَمَا شَابَ مَوْضِعُ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا محمد بن فضالہ ظفری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو میں دو ہفتوں کا تھا ، مجھے آپ کی خدمت میں لایا گیا ، آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور ارشاد فرمایا : ” میرے نام کے مطابق اس کا نام رکھ دو لیکن میری کنیت کے مطابق اس کی کنیت نہ رکھنا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : میرے والد مجھے ساتھ لے کر حجۃ الوداع پر گئے تھے اس وقت میری عمر دس سال تھی ، راوی کہتے ہیں : سیدنا محمد بن فضالہ رضی اللہ عنہ کی عمر طویل ہوئی تھی ، یہاں تک کہ ان کے سر کے بال سفید ہو گئے تھے لیکن اس جگہ کے بال سفید نہیں ہوئے تھے جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دست مبارک رکھا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔