مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَسْمَاءِ وَمَا جَاءَ فِي الْأَسْمَاءِ الْحَسَنَةِ باب: ناموں کا بیان اور اچھے ناموں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ : ¤ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَأَلَ عَنِ اسْمِ الرَّجُلِ وَكَانَ حَسَنًا ، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ كَرِهَهُ ، فَإِذَا نَزَلَ بِالْقَرْيَةِ سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا ، فَإِنْ كَانَ اسْمُهَا حَسَنًا سُرَّ بِذَلِكَ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کا نام پوچھتے تھے ، تو اگر وہ اچھا ہوتا تھا تو اچھائی کا اندازہ آپ کے چہرے سے ہو جاتا تھا ، اور اگر وہ اس کے علاوہ ہوتا تھا تو آپ اس کو ناپسند کرتے تھے ، جب آپ کسی بستی میں پڑاؤ کرتے تھے ، تو وہاں کا نام دریافت کر لیتے تھے ، اگر اس کا نام اچھا ہوتا تھا تو آپ اس بات پر خوش ہوتے تھے اور اگر وہ اس کے علاوہ ( یعنی برا ) ہوتا تھا تو اس کا اندازہ آپ کے چہرے سے ہو جاتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سعید بن بشیر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔