مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ باب: ( اجنبی ) خواتین کے پاس جانا
عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ : اسْتَأْذَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَلَى فَاطِمَةَ ، فَأَذِنَتْ لَهُ ، فَقَالَ : ثَمَّ عَلِيٌّ ؟ قَالُوا : لَا . فَرَجَعَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا مَرَّةً أُخْرَى ، فَقَالَ : ثَمَّ عَلِيٌّ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . فَدَخَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ حِينَ لَمْ تَجِدْنِي هَاهُنَا ؟ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَانَا أَنْ نَدْخُلَ عَلَى الْمُغَيَّبَاتِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ مَكَانَ فَاطِمَةَ أَسْمَاءَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا صَالِحٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ فَاطِمَةَ ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْ عَمْرٍو . ¤ابوصالح بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں اجازت دیدی ، انہوں نے دریافت کیا : کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں ؟ گھر والوں نے بتایا : جی نہیں ۔ تو وہ واپس چلے گئے ۔ پھر بعد میں انہوں نے دوسری مرتبہ ان کے ہاں آنے کی اجازت مانگی اور دریافت کیا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں ؟ تو گھر والوں نے بتایا : جی ہاں ، تو وہ گھر آ گئے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : آپ نے جب مجھے نہیں پایا تھا تو آپ اس وقت اندر کیوں نہیں آئے تھے ؟ تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم ایسی خواتین کے پاس جائیں ، جن کے شوہر گھر میں موجود نہ ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی جگہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابوصالح نامی راوی نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ۔ اس نے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے ۔