مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ قَبَّلَ أَوْ لَامَسَ . باب: جو شخص ( باوضو حالت میں بیوی کو ) بوسہ دے یا چھو لے
حدیث نمبر: 1280
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَبِّلُ ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَا يُحْدِثُ وُضُوءًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى وَابْنُ الْمَدِينِيِّ ، وَوَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ ، وَثَبَّتَهُ مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ محترمہ کا بوسہ لے لیتے تھے اور پھر نماز ادا کرنے کے لیے تشریف لے جاتے تھے ، اور ازسر نو وضو نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان رہاوی ہے ، جسے امام أحمد یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، جبکہ امام بخاری رحمہ اللہ اور امام ابوحاتم نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، مروان بن معاویہ نے اسے ” ثبت “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔