مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُسَلَّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي باب: اس شخص کا بیان جسے سلام کیا جائے اور وہ اس وقت نماز پڑھ رہا ہو
حدیث نمبر: 12775
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : ¤ أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ ، فَرَدَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِشَارَةً ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ : " كُنَّا نَرُدُّ السَّلَامَ فَنُهِينَا عَنْ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ - كَاتِبُ اللَّيْثِ - وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اشارے کے ساتھ جواب دیا ، جب آپ نے سلام پھیر لیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : پہلے ہم ( نماز کے دوران ) سلام کا جواب دیدیا کرتے تھے ، پھر ہمیں اس سے منع کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ۔ اس کی توثیق کی گئی ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف بھی قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔