مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ الْمُصَافَحَةِ وَالسَّلَامِ وَنَحْوِ ذَلِكَ باب: مصافحہ کرنا سلام کرنا اور اس کی مانند دیگر امور کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ :
" مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ الْتَقَيَا ، فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ ، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَحْضُرَ دُعَاءَهُمَا ، وَلَا يُفَرِّقَ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا حَتَّى يَغْفِرَ لَهُمَا " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ :
" كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُجِيبَ دُعَاءَهُمَا ، وَلَا يَرُدَّ أَيْدِيَهُمَا حَتَّى يَغْفِرَ لَهُمَا " .
وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَيْمُونِ بْنِ عَجْلَانَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بھی دو مسلمان ایک دوسرے سے ملیں اور ان میں سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ لازم ہے کہ وہ ان دونوں کی دعا کے وقت موجود ہو ، اور ان دونوں کے ہاتھ جدا ہونے سے پہلے ان دونوں کی مغفرت کر دے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ ان دونوں کی دعا کو قبول کرے اور ان دونوں کے ہاتھ جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت کر دے ۔ “ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف میمون بن عجلان کا معاملہ مختلف ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور کسی نے اسے ضعیف نہیں کہا: ہے ۔