مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ سَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ فِي خَيْرٍ أَوْ غَيْرِهِ باب: اس شخص کا بیان جو کسی قوم کو سلام کرتا ہے ، اور وہ لوگ بھلائی میں یا کسی اور معاملے میں مشغول ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 12760
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : ¤ يَا بُنَيَّ ، إِذَا كُنْتَ فِي مَجْلِسٍ تَرْجُو خَيْرَهُ ، فَعَجَّلَتْ بِكَ حَاجَةٌ ، فَقُلِ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، فَإِنَّكَ شَرِيكُهُمْ فِيمَا يَصِيبُونَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بِسِطَامِ بْنِ مُسْلِمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
معاویہ بن قرہ اپنے والد کے بارے میں نقل کرتے ہیں : انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! جب تم کسی محفل میں ہو ، اور تمہیں اس کی بھلائی کی امید ہو ، اور تمہیں کسی کام کے سلسلے میں جلدی اٹھنا پڑے ، تو تم السلام علیکم کہو ، کیونکہ اس محفل میں ان لوگوں کو جو بھی اجر و ثواب حاصل ہو گا ، تم اس میں شریک ہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف بسطام بن مسلم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔