مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ بَخِلَ بِالسَّلَامِ باب: اس شخص کا بیان جو سلام کے حوالے سے بخل سے کام لے
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي عَذْقًا ، وَإِنَّهُ قَدْ آذَانِي وَشَقَّ عَلَيَّ مَكَانَ عَذْقِهِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " بِعْنِي عَذْقَكَ الَّذِي فِي حَائِطِ فُلَانٍ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " فَهَبْهُ لِي " . قَالَ : لَا . قَالَ : " فَبِعْنِيهِ بِعَذْقٍ فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ : لَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ ، إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : فلاں شخص کا میرے باغ میں ایک گچھہ ہے ۔ وہ میرے ہاں آتا ہے ، تو اس کے گچھے کی جگہ میرے لئے دشواری کا باعث بنتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دوسرے شخص کو پیغام بھیج کر فرمایا کہ تم فلاں شخص کے باغ میں موجود اپنے گچھے کو مجھے فروخت کر دو ، اس نے جواب دیا : جی نہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کو مجھے ہبہ کر دو ۔ اس نے عرض کی : جی نہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جنت میں موجود ایک گچھے کے عوض میں اس کو مجھے فروخت کر دو ۔ اس نے عرض کی : جی نہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو تم سے زیادہ بخیل ہو ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو سلام کرنے کے حوالے سے بخل سے کام لے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ۔ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔