حدیث نمبر: 12691
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ ، مَا يَتَكَلَّمُ مِنَّا مُتَكَلِّمٌ ، إِذْ جَاءَهُ نَاسٌ فَقَالُوا : مَنْ أَحَبُّ عِبَادِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى ؟ قَالَ : " أَحْسَنُهُمْ أَخْلَاقًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، یوں لگتا تھا جیسے ہمارے سروں پر پرندے موجود ہیں ، ہم میں سے کوئی شخص کلام نہیں کر رہا تھا ، اسی دوران کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ کے نزدیک اللہ کے بندوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 12691
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (369) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (475 و 470 و 471)»