مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الْخُلُقِ باب: اچھے اخلاق کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُحِبُّ الْجَمَالَ ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أُحْمَدَ ، كَأَنَّهُ يَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُحِبَّ أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا ، وَتَمُوتَ سَعِيدًا ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ عَلَى إِتْمَامِ مَحَاسِنِ الْأَخْلَاقِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّمَا بُعِثْتُ بِمَحَاسِنِ الْأَخْلَاقِ " . ¤ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْجُدْعَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں جمال کو پسند کرتا ہوں اور اس بات کو بھی پسند کرتا ہوں کہ میری تعریف کی جائے ، راوی بیان کرتے ہیں : گویا اس شخص نے اپنی ذات کے حوالے سے ( تکبر کے حوالے سے ) اندیشے کا اظہار کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے لے کیا چیز رکاوٹ ہے کہ تم اس بات کو پسند کرو کہ تم قابل تعریف زندگی بسر کرو اور سعادت مندی والی موت مر جاؤ ، مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کے ہیں : ” مجھے عمدہ اخلاق کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے ۔ “
اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوبکر جدعانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔