مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الْخُلُقِ باب: اچھے اخلاق کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَوْحَى اللَّهُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ : يَا خَلِيلِي ، حَسِّنْ خُلُقَكَ وَلَوْ مَعَ الْكُفَّارِ ، تَدْخُلْ مَدْخَلَ الْأَبْرَارِ ، وَإِنَّ كَلِمَتِي سَبَقَتْ لِمَنْ حَسُنَ خُلُقُهُ أَنْ أُظِلَّهُ تَحْتَ عَرْشِي ، وَأَنْ أَسْقِيَهُ مِنْ حَظِيرَةِ قُدْسِي ، وَأَنْ أُدْنِيَهُ مِنْ جِوَارِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُؤَمِّلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الثَّقَفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرف یہ وحی کی : اے میرے خلیل ! تم اپنے اخلاق کو اچھے رکھو ، خواہ کافروں کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو ، تم نیک لوگوں کی جگہ پر داخل ہو جاؤ گے ، اور میرا فرمان ان لوگوں کے لئے سبقت لے جا چکا ہے ، جن کے اخلاق اچھے ہوں کہ میں انہیں اپنے عرش کے ساتھ رکھوں گا ، اور میں انہیں اپنے حظيرة القدس سے پلاؤں گا ، اور انہیں اپنے پڑوس میں رکھوں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مؤمل بن عبدالرحمن ثقفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔