مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ تَوْقِيرِ الْكَبِيرِ وَرَحْمَةِ الصَّغِيرِ باب: بڑے کی تعظیم کرنا اور چھوٹے پر مہربانی کرنا
وَعَنْهُ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، إِذْ أُتِيَ بِقَدَحٍ فِيهِ شَرَابٌ ، فَنَاوَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا عُبَيْدَةَ ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : أَنْتَ أَوْلَى بِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ : " خُذْ " . فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ الْقَدَحَ ، قَالَ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَشْرَبَ : خُذْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ . فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اشْرَبْ ، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ مَعَ أَكَابِرِنَا ، فَمَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا ، وَيُجِلَّ كَبِيرَنَا ، فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدٍ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے آپ کے کچھ اور اصحاب بھی تھے ، اسی دوران ایک پیالہ لایا گیا جس میں مشروب تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھایا ، سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لے لو ، سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے پیالہ لے لیا اور پینے سے پہلے انہوں نے پھر آپ کی خدمت میں گزارش کی ، اے اللہ کے نبی ! آپ لے لیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پیو کیونکہ برکت ہمارے بڑوں کے ساتھ ہے ، جو شخص ہمارے چھوٹے پر مہربانی نہیں کرتا اور ہمارے بڑے کی تعظیم نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔