حدیث نمبر: 12604
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : سَأَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَثَانِ مَا قَدِمَ فَقَالَ : أَيْنَ حُبْسُ سَيْلٍ ؟ قُلْنَا : لَا نَدْرِي . فَمَرَّ بِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، فَقُلْتُ : مِنْ أَيْنَ جِئْتَ ؟ فَقَالَ : مِنْ حُبْسِ سَيْلٍ . فَدَعَوْتُ بِنَعْلِي ، فَانْحَدَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ سَأَلْتَنَا عَنْ حُبْسِ سَيْلٍ ، فَقُلْنَا : لَا عِلْمَ لَنَا بِهِ ، وَإِنَّهُ مَرَّ بِي هَذَا الرَّجُلُ ، فَسَأَلْتُهُ ، فَزَعَمَ أَنَّ بِهِ أَهْلَهُ . فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَيْنَ أَهْلُكَ ؟ " . قَالَ : بِحُبْسِ سَيْلٍ . قَالَ : " أَخْرِجْ أَهْلَكَ مِنْهَا ، فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْهَا نَارٌ تُضِيءُ أَعْنَاقَ الْإِبِلِ بِبُصْرَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : جو کچھ آگے آئے گا اس میں سب سے پہلی چیز کیا ہے ، تو آپ نے دریافت کیا : حبس سیل کہاں ہیں ؟ ہم نے جواب دیا : ہمیں نہیں معلوم ، پھر بنو سلیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص میرے پاس سے گزرا ، میں نے دریافت کیا : تم کہاں سے آئے ہو ، اس نے بتایا : حبس سیل سے ۔ میں نے اپنا جوتا منگوایا اور جلدی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہم سے حبس سیل کے بارے میں دریافت کیا تھا ، تو ہم نے یہ عرض کی تھی کہ ہمیں اس کے بارے میں علم نہیں ہے ، ابھی میرے پاس سے ایک شخص گزرا ، میں نے اس سے دریافت کیا تو اس کا یہ کہنا ہے کہ وہ وہاں کا رہنے والا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے اس بارے میں دریافت کیا اور فرمایا : تمہارے گھر والے کہاں ہیں ؟ اس نے جواب دیا : حبس سیل کے مقام پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے اہل خانہ کو وہاں سے نکال دو کیونکہ عنقریب وہاں سے ایک آگ نکلے گی ، جس کے ذریعے بصریٰ میں موجود اونٹوں کی گردنیں روشن ہو جائیں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12604
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (173/17)»