مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَسْخِ وَالْقَذْفِ وَإِرْسَالِ الشَّيَاطِينِ وَالصَّوَاعِقِ باب: مسخ کیے جانے ، پتھر مارے جانے ، شیاطین کو چھوڑے جانے اور بجلیاں گرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12592
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّهُ يَكُونُ فِي آخِرِ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ بَيْنَا هُمْ فِي شُرْبِ الْخَمْرِ وَضَرْبِ الْمَعَازِفِ ، حَتَّى يَأْفِكَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ، فَيَعُودُوا قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن بشر رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس امت میں آخری زمانے میں ایک قوم ہو گی وہ لوگ شراب پی رہے ہوں گے باجے بجا رہے ہوں گے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان پر ناراضگی نازل کرے گا ، اور وہ لوگ بندر اور خنزیر بن جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔