مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ فِيمَنْ مَسَّ فَرْجَهُ . باب: اس شخص کا بیان جو اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے (یعنی کیا اُس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ )
عَنْ سَيْفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحِمْيَرَيِّ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَرِجَالٌ مَعِي عَلَى عَائِشَةَ ، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ الرَّجُلِ يَمْسَحُ فَرْجَهُ ، فَقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا أُبَالِي إِيَّاهُ مَسِسْتُ أَوْ أَنْفِي " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَامَةِ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ دَفَّاعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَيْفٍ ، وَهَؤُلَاءِ مَجْهُولُونَ ، وَهُوَ أَقَلُّ مَا يُقَالُ فِيهِمْ . ¤سیف بن عبداللہ حمیری بیان کرتے ہیں : میں ، کچھ افراد کے ساتھ ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، ہم نے اُن سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا : جو اپنی شرمگاہ پر ہاتھ لگا دیتا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ میں نے اُسے ( یعنی شرمگاہ کو ) چھو لیا ہے ، یا اپنی ناک کو ( چھو لیا ہے ) “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ، اہل یمامہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے حسین بن دفاع کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے ، سیف سے نقل کی ہے ، اور یہ سب لوگ مجہول ہیں ، ان کے بارے میں ، کم از کم یہ بات کہی جا سکتی ہے ۔