مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ السَّتْرِ عَلَى مَنْ خَرَجَ مِنْهُ رِيحٌ . باب: اس شخص کی پردہ پوشی کرنا جس کی ہوا خارج ہو جائے
عَنْ جَرِيرٍ أَنَّ عُمَرَ صَلَّى بِالنَّاسِ ، فَخَرَجَ مِنْ إِنْسَانٍ شَيْءٌ ، فَقَالَ : عَزَمْتُ عَلَى صَاحِبِ هَذَا أَلَّا تَوَضَّأَ وَأَعَادَ الصَّلَاةَ ، فَقَالَ جَرِيرٌ : لَوْ تَعْزِمُ عَلَى كُلِّ مَنْ سَمِعَهَا أَنْ يَتَوَضَّأَ وَأَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ ، قَالَ : نِعِمَّا ، قُلْتَ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَأَمَرَهُمْ بِذَلِكَ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي النَّهْيِ عَنِ الضَّحِكِ مِنَ الضَّرْطَةِ .
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، اسی دوران کسی شخص کی ہوا خارج ہو گئی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس ( ہوا خارج کرنے والے ) شخص کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ وضو کرے اور نماز دوبارہ ادا کرے ، تو سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ہر اس شخص کو تاکید کر دیں ، جس نے یہ ( آواز ) سنی ہے ، کہ وہ وضو کرے اور نماز دوبارہ ادا کرے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے بہت اچھی بات کہی ہے ، اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے ! پھر انہوں نے لوگوں کو اس بات کا حکم دے دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، ہوا خارج ہونے پر ہنسنے کی ممانعت کے بارے میں ایک حدیث پہلے گزر چکی ہے ۔