مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ السَّتْرِ عَلَى مَنْ خَرَجَ مِنْهُ رِيحٌ . باب: اس شخص کی پردہ پوشی کرنا جس کی ہوا خارج ہو جائے
حدیث نمبر: 1257
عَنْ جَرِيرٍ أَنَّ عُمَرَ صَلَّى بِالنَّاسِ ، فَخَرَجَ مِنْ إِنْسَانٍ شَيْءٌ ، فَقَالَ : عَزَمْتُ عَلَى صَاحِبِ هَذَا أَلَّا تَوَضَّأَ وَأَعَادَ الصَّلَاةَ ، فَقَالَ جَرِيرٌ : لَوْ تَعْزِمُ عَلَى كُلِّ مَنْ سَمِعَهَا أَنْ يَتَوَضَّأَ وَأَنْ يُعِيدَ الصَّلَاةَ ، قَالَ : نِعِمَّا ، قُلْتَ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَأَمَرَهُمْ بِذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي النَّهْيِ عَنِ الضَّحِكِ مِنَ الضَّرْطَةِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کسی شخص کی نماز کے دوران نکسیر پھوٹ جائے ، تو اُسے نماز چھوڑ کر جا کر خون دھونا چاہیے ، دوبارہ وضو کرنا چاہیے اور نئے سرے سے نماز پڑھنی چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مسلمہ ہے ، جسے لوگوں نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، تاہم اس نے یہ روایت ابن ارقم کے حوالے سے عطاء سے نقل کی ہے ، اور ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ ابن ارقم کون ہے ؟