کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان جو اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے (یعنی کیا اُس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ )
حدیث نمبر: 1258
عَنْ سَيْفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحِمْيَرَيِّ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَرِجَالٌ مَعِي عَلَى عَائِشَةَ ، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ الرَّجُلِ يَمْسَحُ فَرْجَهُ ، فَقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا أُبَالِي إِيَّاهُ مَسِسْتُ أَوْ أَنْفِي " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَامَةِ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ دَفَّاعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَيْفٍ ، وَهَؤُلَاءِ مَجْهُولُونَ ، وَهُوَ أَقَلُّ مَا يُقَالُ فِيهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیف بن عبداللہ حمیری بیان کرتے ہیں : میں ، کچھ افراد کے ساتھ ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، ہم نے اُن سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا : جو اپنی شرمگاہ پر ہاتھ لگا دیتا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ میں نے اُسے ( یعنی شرمگاہ کو ) چھو لیا ہے ، یا اپنی ناک کو ( چھو لیا ہے ) “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ، اہل یمامہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے حسین بن دفاع کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے ، سیف سے نقل کی ہے ، اور یہ سب لوگ مجہول ہیں ، ان کے بارے میں ، کم از کم یہ بات کہی جا سکتی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1258
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1259
وَعَنْ عِصْمَةَ بْنِ مَالِكٍ الْخَطْمِيِّ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : احْتَكَّ بَعْضُ جَسَدِي ، فَأَدْخَلْتُ يَدِي أَحْتَكُّ ، فَأَصَابَتْ يَدِي ذَكَرِي . قَالَ : " وَأَنَا يُصِيبُنِي ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عصمہ بن مالک خطمی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: میں اپنے جسم کے کسی حصے پر خارش کر رہا ہوتا ہوں ، اور خارش کرتے ہوئے ، میرا ہاتھ میری شرمگاہ پر لگ جاتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے ساتھ بھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، وہ منکر الحدیث ہے اور انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1259
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 1260
وَعَنْ أَرْقَمَ بْنِ شُرَحْبِيلٍ قَالَ : حَكَّيْتُ جَسَدِي ، وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ ، فَأَفْضَيْتُ إِلَى ذَكَرِي ، فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ لِي : " اقْطَعْهُ - وَهُوَ يَضْحَكُ - أَيْنَ تَعْزِلُهُ مِنْكَ ؟ إِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
ارقم بن شرحبیل بیان کرتے ہیں : میں نماز کے دوران اپنے جسم پر خارش کر رہا تھا ، میرا ہاتھ میری شرمگاہ پر لگ گیا ، میں نے اس بات کا ذکر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کیا ، تو انہوں نے ہنستے ہوئے فرمایا : تم اسے کاٹ دو ! تم اُسے الگ کیسے کر سکتے ہو ؟ وہ تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1260
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1261
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ قَالَ : سُئِلَ ابْنَ مَسْعُودٍ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ ، فَقَالَ : هَلْ هُوَ إِلَّا كَطَرَفِ أَنْفِكَ . ¤ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن علقمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں دریافت کیا گیا : میں یہ بات سن رہا تھا ، اُنہوں نے فرمایا : وہ تمہاری ناک کے کنارے کی طرح ہے ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1261
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1262
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ : مَا أُبَالِي إِيَّاهُ مَسِسْتُ أَوْ أَرْنَبَتِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَكَذَلِكَ قَتَادَةَ ، فَإِنَّهُ رَوَاهُ عَنْهُ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا ، کہ میں نے اس کو چھو لیا ہے یا ناک کو چھو لیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، سعید بن جبیر نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، قتادہ کا حال بھی اسی طرح ہے ، انہوں نے بھی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1262
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 1263
وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّ خَمْسَةً مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَابْنَ مَسْعُودٍ ، وَحُذَيْفَةَ ، وَعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، وَرَجُلًا آخَرَ - قَالَ بَعْضُهُمْ : مَا أُبَالِي مَسِسْتُ ذَكَرِي أَوْ أَرْنَبَتِي ، وَقَالَ الْآخَرُ : فَخِذِي ، وَقَالَ الْآخَرُ : رُكْبَتِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ الْحَسَنَ مُدَلِّسٌ ، وَلَمْ يُصَرِّحْ بِالسَّمَاعِ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے پانچ افراد ، یعنی سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور ایک اور صاحب یہ فرماتے ہیں ، ان میں سے کسی نے یہ کہا: ہے : میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ میں نے اپنی شرمگاہ کو چھو لیا ہے ، یا اپنے ناک کو چھوا ہے ، کسی نے یہ کہا: ہے : میں نے اپنے زانوں کو چھوا ہے ، کسی نے یہ کہا: ہے : میں نے اپنے گھٹنے کو چھوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں اور ” صحیح “ کے رجال میں سے ہیں ، البتہ حسن نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، اور اُس نے سماع کی صراحت نہیں کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1263
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1264
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ قَالَ : حَدَّثَنِي . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے اُسے وضو کرنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، تاہم یہاں اس نے یہ کہا: ہے : اُس نے مجھے حدیث بیان کی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1264
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «كما يابس بدابته صحيح ابن حبان كتاب الطهارة باب نواقض الوضوء ذكر خبر ثان يصرح بان عروة بن الزبير سمع هذا الخبر 1120 المستدرك على الصحيحين للحاكم كتاب الطهارة 429 سنن الدارمي كتاب الطهارة باب الوضوء من مس الذكر 759 مصنف ابن ابي شيبة كتاب الطهارات من كان يرى من مس الذكر وضوء 1 حديث 1705 البحر الزخار مسند البزار ما اسند زيد بن خالد الجهني ، 3175 مسند ابي يعلى الموصلي حديث ام حبيبة بنت أبى سفيان ام المومنين ، 6984 المعجم الاوسط للطبراني باب الباء من اسمه بكر 3152»
حدیث نمبر: 1265
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَفْضَى بِيَدِهِ إِلَى ذَكَرِهِ لَيْسَ دُونَهُ سَتْرٌ ; فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَكْثَرُ النَّاسِ ، وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اپنا ہاتھ اپنی شرم گاہ کی طرف لے جائے ، اور شرمگاہ پر کوئی پردہ نہ ہو تو اس شخص پر وضو لازم ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، جسے زیادہ تر لوگوں نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، ایک روایت کے مطابق یحییٰ بن معین نے اُسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1265
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1266
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مَسَّتْ فَرْجَهَا فَلْتَتَوَضَّأْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے ، اُسے وضو کرنا چاہیے ، جو عورت اپنی شرمگاہ کو چھو لے ، اُسے وضو کرنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، جس نے ” عنعنہ “ کے ساتھ روایت نقل کی ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1266
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1267
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنْ بُسْرَةَ بِنْتَ صَفْوَانَ ، سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : - عَنِ الْمَرْأَةِ تُدْخِلُ يَدَهَا فِي فَرْجِهَا ؟ فَقَالَ : " عَلَيْهَا الْوُضُوءُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ ، وَالْأَكْثَرُونَ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا : جو اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ میں داخل کر لیتی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس عورت پر وضو لازم ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے ، اکثر حضرات نے اُسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1267
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1268
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي سَنَدِ الْكَبِيرِ الْعَلَاءُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَفِي سَنَدِ الْبَزَّارِ هَاشِمُ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے ، اُسے وضو کرنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کی سند میں ایک راوی علاء بن سلیمان ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، امام بزار کی سند میں ایک راوی ہاشم بن زید ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1268
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً۔
حدیث نمبر: 1269
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ شُرَيْحٍ . قَالَ الْأَزْدِيُّ : لَا يَصِحُّ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے ، اُسے وضو کرنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن شریح ہے ، ازدی فرماتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث مستند نہیں ہوتی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1269
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1270
وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَكَانَ فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَالَ : لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عُتْبَةَ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَقَدْ رَوَى الْحَدِيثَ الْآخَرَ حَمَّادُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَهُمَا عِنْدِي صَحِيحَانِ . وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَ الْحَدِيثَ الْأَوَّلَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ هَذَا ، ثُمَّ سَمِعَ هَذَا بَعْدُ ، فَوَافَقَ حَدِيثَ بُسْرَةَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَغَيْرِهِمْ مِمَّنْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ الْأَمْرَ بِالْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ فَسَمِعَ النَّاسِخَ وَالْمَنْسُوخَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ ، جو اُس وفد میں شامل تھے ، جو وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے اُسے وضو کرنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : ایوب کے حوالے سے عتبہ سے
یہ روایت ، صرف حماد بن محمد نے نقل کی ہے ، حماد بن محمد نے ایک اور حدیث بھی نقل کی ہے ، یہ دونوں احادیث میرے نزدیک صحیح ہیں اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ انہوں نے پہلی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اُس سے پہلے سنی ہو گی ، اور پھر بعد میں یہ حدیث سنی ہو گی ۔ یہ حدیث سیدہ بسره رضی اللہ عنہا ، سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نقل کردہ روایات کے مطابق ہے ، جن میں ان حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرمگاہ کو چھونے پر وضو کرنے کا حکم دیا ہے تو ان صحابی نے ” ناسخ “ اور ” منسوخ“ ( یعنی دونوں قسم کی احادیث سنی ہیں ) ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1270
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح، امام طبرانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور کثرتِ شواہد
حدیث نمبر: 1271
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنْ بُسْرَةَ بِنْتَ صَفْوَانَ بْنِ نَوْفَلٍ سَأَلَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمَرْأَةِ تَضْرِبُ بِيَدِهَا فَتُصِيبُ فَرْجَهَا ، فَقَالَ : " تَوَضَّأُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمِّلِ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى فِي رِوَايَةٍ ، وَوَثَّقَهُ فِي أُخْرَى ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ بسرہ بنت صفوان بن نوفل رضی اللہ عنہا نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی عورت کے بارے میں دریافت کیا ، جو ہاتھ لگاتی ہے ، تو اس کا ہاتھ شرمگاہ کو لگ جاتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ وضو کرے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے ، جسے امام أحمد نے ، اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، دوسری روایت کے مطابق یحیی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1271
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1272
وَعَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ أَوْ أُنْثَيَيْهِ أَوْ رُفْغَيْهِ فَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ " . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَهُوَ فِي السُّنَنِ خَلَا ذِكْرَهُ الْأُنْثَيَيْنِ وَالرُّفْغَيْنِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اپنی شرمگاہ ، یا خصیوں ، یا شرمگاہ کے آس پاس کے حصے کو چھو لے ، تو اُسے نماز کے وضو کی طرح وضو کرنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، یہ ” سنن“ میں منقول ہے ، تاہم اس میں خصیوں ، اور شرمگاہ کے آس پاس کے حصے کا ذکر نہیں ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1272
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح