حدیث نمبر: 12578
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ - أَرَاهُ رَفَعَهُ - قَالَ : " تَخْرُجُ الدَّابَّةُ مِنْ أَعْظَمِ الْمَسَاجِدِ ، فَبَيْنَا هُمْ إِذْ دَبَّتِ الْأَرْضُ ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ تَصَدَّعَتْ " . قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : تَخْرُجُ حِينَ يَسْرِي الْإِمَامُ مِنْ جَمْعٍ ، وَإِنَّمَا جُعِلَ سَابِقَ الْحَاجِّ لِيُخْبِرَ النَّاسَ أَنَّ الدَّابَّةَ لَمْ تَخْرُجْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے یہ روایت منقول ہے راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ۔ انہوں نے یہ روایت مرفوع حدیث کے طور پر نقل کی ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” دابۃ الارض سب سے بڑی مسجد سے نکلے گا ، ابھی وہ لوگ وہاں ہوں گے کہ اسی دوران زمین ہل جائے گی اور ابھی وہ لوگ اسی حالت میں ہوں گے کہ وہ تھرتھراے گی ۔ “ ابن عیینہ بیان کرتے ہیں : یہ اس وقت نکلے گا جب اس وقت کا حاکم مزدلفہ سے روانہ ہو گا ، حاجیوں سے پہلے جانے والوں کو اسی لئے مقرر کیا گیا ہے ، تاکہ وہ لوگوں کو یہ بتا دیں کہ ابھی دابۃ الارض نہیں نکلا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب سورج مغرب سے نکل آئے گا ، تو ابلیس سجدے میں گر جائے گا ، اور وہ بلند آواز میں پکار کر کہے گا : اے میرے معبود ! تو مجھے حکم دے جسے تو چاہتا ہے ، میں اسے سجدہ کر دوں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو اس کے ساتھی اس کے پاس اکٹھے ہوں گے اور کہیں گے : اے آقا ! یہ گریہ و زاری کس وجہ سے ہے ؟ وہ کہے گا : میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی تھی کہ وہ مجھے ایک متعین وقت تک کی مہلت دے ، تو یہ وہ متعین وقت ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : پھر دابۃ الارض صفا پہاڑ میں موجود ایک سوراخ سے نکلے گا ، اور اس کا پہلا قدم انطاکیہ میں ہو گا ، پھر وہ ابلیس کے پاس آئے گا اور اس کو تھپڑ مارے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن زبریق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، خَرَّ إِبْلِيسُ سَاجِدًا يُنَادِي وَيَجْهَرُ : إِلَهِي ، مُرْنِي أَنْ أَسْجُدَ لِمَنْ شِئْتَ ، قَالَ : فَتَجْتَمِعُ إِلَيْهِ زَبَانِيَتُهُ ، فَيَقُولُونَ : يَا سَيِّدَّهُمْ ، مَا هَذَا التَّضَرُّعُ ؟ فَيَقُولُ : إِنَّمَا سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يُنْظِرَنِي إِلَى الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ، وَهَذَا الْوَقْتُ الْمَعْلُومُ " . قَالَ : " ثُمَّ تَخْرُجُ دَابَّةُ [ الْأَرْضِ ] مِنْ صَدْعٍ فِي الصَّفَا ، فَأَوَّلُ خُطْوَةٍ تَضَعُهَا بِأَنْطَاكِيَّةَ ، فَتَأْتِي إِبْلِيسَ فَتَلْطِمُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب سورج اپنے مغرب (مغرب کی سمت) سے طلوع ہوگا ، تو ابلیس سجدے میں گر پڑے گا اور بلند آواز سے پکار کر کہے گا : اے میرے معبود ! تو مجھے حکم دے میں جسے چاہے سجدہ کرنے کو تیار ہوں ! (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : پھر اس کے شیاطین/چیلے اس کے پاس جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے : اے ہمارے سردار ! یہ عاجزی و زاری کیسی ؟ تو وہ کہے گا : میں نے اپنے رب عزوجل سے محض وقتِ معلوم (مقررہ وقت) تک مہلت مانگی تھی ، اور یہ وہی وقتِ معلوم ہے (جو آ پہنچا ہے ) “ ۔ فرمایا :” پھر صفا (پہاڑی) کے شگاف سے دابۃ الارض (زمین کا جانور) نکلے گا ، اور وہ اپنا پہلا قدم انطاکیہ میں رکھے گا ، پھر وہ ابلیس کے پاس آ کر اسے تھپڑ مارے گا “ ۔
اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے المعجم الکبیر اور المعجم الاوسط میں روایت کیا ہے ، اور اس کی سند میں اسحاق بن ابراہیم بن زبریق نامی راوی ہے جو ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12578
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (94)»