مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ قَالَ : أَتَيْنَا رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا : حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا تُحَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنَ النَّاسِ ، فَشَدَدْنَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِينَا ، فَقَالَ : " أُنْذِرُكُمُ الْمَسِيحَ ، وَهُوَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - الْيُسْرَى ، يَسِيرُ مَعَهُ جِبَالُ الْخُبْزِ وَأَنْهَارُ الْمَاءِ ، عَلَامَتُهُ يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، يَبْلُغُ سُلْطَانُهُ كُلَّ مَنْهَلٍ ، لَا يَأْتِي أَرْبَعَةَ مَسَاجِدَ : الْكَعْبَةَ وَمَسْجِدَ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمَسْجِدَ الْأَقْصَى وَالطُّورَ ، وَمَهْمَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ بِأَعْوَرَ " ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : أَحْسَبُهُ قَالَ : " يُسَلَّطُ عَلَى رَجُلٍ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحَيِّيهِ وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جنادہ بن ابوامیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی کے پاس آئے ، ہم ان کے پاس آئے ، ہم نے کہا: آپ ہمیں وہ حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ، آپ کوئی ایسی بات بیان نہ کیجئے گا ، جو آپ نے لوگوں سے سنی ہو ، ہم نے اس بارے میں ان سے زیادہ گزارش کی ، تو انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں دجال سے تمہیں ڈرا رہا ہوں ، اس کی بائیں آنکھ نہیں ہو گی ، اس کے ساتھ روٹی کے پہاڑ اور پانی کی نہریں ہوں گی ، اس کی علامت یہ ہے کہ وہ زمین میں چالیس دن تک رہے گا ، اور اس کی بادشاہی ہر چشمے تک پہنچ جائے گی ، تاہم وہ چار مساجد تک نہیں آ سکے گا ، خانہ کعبہ ، مسجد نبوی ، مسجد اقصیٰ اور مسجد طور ، بہرحال جو بھی ہو ، تم یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے ۔ “ ابن عون کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اسے ایک شخص پر تسلط دیا جائے گا ، وہ اسے قتل کر دے گا ، پھر وہ اسے زندہ کرے گا ، اس شخص کے علاوہ کسی پر اس کو تسلط نہیں کیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔