مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ . باب: دجال کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَهْبَطَ اللَّهُ - تَعَالَى - إِلَى الْأَرْضِ مُنْذُ خَلَقَ آدَمَ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ فِتْنَةً أَعْظَمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ، وَقَدْ قُلْتُ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ أَحَدٌ قَبْلِي ، إِنَّهُ آدَمُ جَعْدٌ ، مَمْسُوحُ عَيْنِ الْيَسَارِ ، عَلَى عَيْنِهِ ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ ، وَإِنَّهُ يُبْرِئُ الْأَكَمَهَ وَالْأَبْرَصَ ، وَيَقُولُ : أَنَا رَبُّكُمْ ، فَمَنْ قَالَ : رَبِّيَ اللَّهُ ، فَلَا فِتْنَةَ عَلَيْهِ ، وَمَنْ قَالَ : أَنْتَ رَبِّي ، فَقَدِ افْتُتِنَ . يَلْبَثُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا بِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مِلَّتِهِ إِمَامًا مَهْدِيًّا وَحَكَمًا عَدْلًا فَيَقْتُلُ الدَّجَّالَ " . فَكَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ : وَنَرَى أَنَّ ذَلِكَ عِنْدَ السَّاعَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ لَا يَضُرُّ . ¤سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے جب سے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ہے ۔ اس وقت سے لے کر قیامت قائم ہونے تک اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف کوئی ایسا فتنہ نازل نہیں کیا ، جو دجال کے فتنے سے زیادہ بڑا ہو ، اور میں دجال کے بارے میں ایک ایسی بات بیان کرنے لگا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے بیان نہیں کی ، وہ گندمی رنگ کا بکھرے بالوں والا شخص ہو گا ، جس کی بائیں آنکھ خراب ہو گی ، اس کی آنکھوں پر موٹا سا ٹکڑا ہو گا ، وہ پیدائشی اندھے اور برص ( یعنی پھلبہری ) کے مریض کو ٹھیک کر دے گا ، اور یہ کہے گا : میں تمہارا پروردگار ہوں ، تو جو شخص یہ کہے : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ۔ اس پر فتنہ واقع نہیں ہو گا ، اور جو شخص یہ کہے : تم میرے پروردگار ہو ، وہ شخص آزمائش میں مبتلا ہو جائے گا ، وہ تمہارے درمیان اس وقت تک رہے گا ، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا ، پھر سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے ، جو سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دین کی تصدیق کرنے والے ہوں گے ، وہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دین کے مطابق ہدایت یافتہ امام کے طور پر اور عدل کرنے والے حکمران کے طور پر نازل ہوں گے ، اور وہ دجال کو قتل کر دیں گے ۔ “ حسن بصری یہ کہا: کرتے تھے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قیامت کے قریب ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اور اس کے بعض راویوں میں ایسا ضعف پایا جاتا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔